کلامِ امیرردیف ن

گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں

۱

گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیںسحر ہوئی تو وہ آنکھیں نہ وہ نگاہیں تھیں

۲

نکل کے چہرے پہ میدان صاف خط نے کیاکبھی یہ شہر تھا ایسا کہ بند راہیں تھیں

۳

فراق میں ترے عاشق کو جا کے کل دیکھاکہ وہ تو ہیچ تھا کچھ اشک تھے کچھ آہیں تھیں

۴

بگولے اب ہیں کہ غربت ہے گور شاہاں پرسروں پہ چتر جلو میں کبھی سپاہیں تھیں

۵

ہزاروں لوٹ گئے کل اٹھی جو وہ چلمنخدنگ موئے مژہ برچھیاں نگاہیں تھیں

۶

کیا یہ شوق نے اندھا مجھے نہ سوجھا کچھوگرنہ ربط کی اس سے ہزار راہیں تھیں

۷

یہ ضعف ہے کہ نکلتی نہیں ہیں اب دل سےکبھی فلک سے بھی اونچی ہماری آہیں تھیں

۸

جگر میں ہجر کی کل چبھ رہی تھیں کچھ پھانسیںمگر جو غور سے دیکھا تری نگاہیں تھیں

۹

پہنچ گئے سر منزل چلے جو چال نئیانہیں میں پھیر تھا دیکھی ہوئی جو راہیں تھیں

۱۰

فلک کے دور سے دنیا بدل گئی ورنہجہاں بنے ہیں یہ مے خانے خانقاہیں تھیں

۱۱

یہ ضعف اب ہے کہ ہلنا گراں ہے قدموں کوسبک روی میں کبھی ان کو دستگاہیں تھیں

۱۲

مشاعرے سے حسیں کیوں نہ چھین لے جاتےرباعیاں مری چو گو شبہ کلاہیں تھیں

۱۳

حسین زر کے ہیں طالب کہ اب ہیں گرد امیرؔغریب ہم تھے تو یہ پیار تھا نہ چاہیں تھیں

۲۵ / ۴۷