گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں
بگولے اب ہیں کہ غربت ہے گور شاہاں پرسروں پہ چتر جلو میں کبھی سپاہیں تھیں
About this couplet
This is couplet 4 of 13 in “گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۴ / ۱۳