بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات

ذرے افشاں کے نہیں کرمک شب تاب سے کمہے وہ زلف عرق آلود کہ برسات کی رات

About this couplet

This is couplet 2 of 8 in “⁨بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات⁩” in the section Ghazals — Radeef Te, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۲ / ۸