کلامِ امیرردیف ت
بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات
۱
بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی راتکیا بری بات ہے رہ جاؤ یہیں رات کی رات
۲
ذرے افشاں کے نہیں کرمک شب تاب سے کمہے وہ زلف عرق آلود کہ برسات کی رات
۳
زاہد اس زلف پھنس جائے تو اتنا پوچھوںکہیے کس طرح کٹی قبلۂ حاجات کی رات
۴
شام سے صبح تلک چلتے ہیں جام مے عیشخوب ہوتی ہے بسر اہل خرابات کی رات
۵
وصل چاہا شب معراج تو یہ عذر کیاہے یہ اللہ و پیمبر کی ملاقات کی رات
۶
ہم مسافر ہیں یہ دنیا ہے حقیقت میں سراہے توقف ہمیں اس جا تو فقط رات کی رات
۷
چل کے اب سو رہو باتیں نہ بناؤ صاحبوصل کی شب ہے نہیں حرف حکایات کی رات
۸
لیلۃ القدر ہے وصلت کی دعا مانگ امیرؔاس سے بہتر ہے کہاں کوئی مناجات کی رات
۱۵ / ۴۷