بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات
ہم مسافر ہیں یہ دنیا ہے حقیقت میں سراہے توقف ہمیں اس جا تو فقط رات کی رات
About this couplet
This is couplet 6 of 8 in “بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات” in the section Ghazals — Radeef Te, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۶ / ۸