کلامِ انیسردیف ے
اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے
۱
اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلےستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلے
۲
پکارے کہتی تھی حسرت سے نعش عاشق کیصنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے
۳
مثال ماہیٔ بے آب موجیں تڑپا کیںحباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے
۴
مقام یوں ہوا اس کارگاہ دنیا میںکہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آ کے چلے
۵
کسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھیچلے جو راہ تو چیونٹی کو بھی بچا کے چلے
۶
ملا جنہیں انہیں افتادگی سے اوج ملاانہیں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے
۷
انیسؔ دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤچراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
۶ / ۹۰