کلامِ انیسردیف ے
خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے
۱
خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیےشمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لیے
۲
زندگی میں تو نہ اک دم خوش کیا ہنس بول کرآج کیوں روتے ہیں میرے آشنا میرے لیے
۳
کنج عزلت میں مثال آسیا ہوں گوشہ گیررزق پہنچاتا ہے گھر بیٹھے خدا میرے لیے
۴
تو سراپا اجر اے زاہد میں سرتاپا گناہباغ جنت تیری خاطر کربلا میرے لیے
۵
نام روشن کر کے کیونکر بجھ نہ جاتا مثل شمعنا موافق تھی زمانہ کی ہوا میرے لیے
۶
ہر نفس آئینۂ دل سے یہ آتی ہے صداخاک تو ہو جا تو حاصل ہو جلا میرے لیے
۷
خاک سے ہے خاک کو الفت تڑپتا ہوں انیسؔکربلا کے واسطے میں کربلا میرے لیے
۷ / ۹۰