کلامِ انیسردیف و

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو

۱

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کوہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو

۲

پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کوخیال صنعت صانع ہے پاک بینوں کو

۳

کمال فقر بھی شایاں ہے پاک بینوں کویہ خاک تخت ہے ہم بوریا نشینوں کو

۴

لحد میں سوئے ہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کوقضا کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو

۵

یہ جھریاں نہیں ہاتھوں پہ ضعف پیری نےچنا ہے جامۂ اصلی کی آستینوں کو

۶

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبارخبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

۷

بھلا تردد بے جا سے ان میں کیا حاصلاٹھا چکے ہیں زمیندار جن زمینوں کو

۸

انہیں کو آج نہیں بیٹھنے کی جا ملتیمعاف کرتے تھے جو لوگ کل زمینوں کو

۹

یہ زائروں کو ملیں سرفرازیاں ورنہکہاں نصیب کہ چومیں ملک جبینوں کو

۱۰

سجایا ہم نے مضامیں کے تازہ پھولوں سےبسا دیا ہے ان اجڑی ہوئی زمینوں کو

۱۱

لحد بھی دیکھیے ان میں نصیب ہو کہ نہ ہوکہ خاک چھان کے پایا ہے جن زمینوں کو

۱۲

زوال طاقت و موئے سپید و ضعف بصرانہیں سے پائے بشر موت کے قرینوں کو

۱۳

نہیں خبر انہیں مٹی میں اپنے ملنے کیزمیں میں گاڑ کے بیٹھے ہیں جو دفینوں کو

۱۴

خبر نہیں انہیں کیا بندوبست پختہ کیجو غصب کرنے لگے غیر کی زمینوں کو

۱۵

جہاں سے اٹھ گئے جو لوگ پھر نہیں ملتےکہاں سے ڈھونڈ کے اب لائیں ہم نشینوں کو

۱۶

نظر میں پھرتی ہے وہ تیرگی و تنہائیلحد کی خاک ہے سرمہ مآل بینوں کو

۱۷

خیال خاطر احباب چاہیئے ہر دمانیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

۵ / ۹۰