کلامِ انیسردیف ے

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے

۱

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئےاڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئے

۲

خاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیںاس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے

۳

علم خالق کا خزانہ ہے میان کاف و نونایک کن کہنے سے یہ کون و مکاں پیدا ہوئے

۴

ضبط دیکھو سب کی سن لی اور کچھ اپنی کہیاس زباں دانی پر ایسے بے زباں پیدا ہوئے

۵

شور بختی آئی حصے میں انہیں کے وا نصیبتلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے

۶

احتیاط جسم کیا انجام کو سوچو انیسؔخاک ہونے کو یہ مشت استخواں پیدا ہوئے

۸ / ۹۰