کلامِ انیسردیف ے

وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سے

۱

وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سےاوس سے گل رنگ کا دعویٰ کرے پھر کس رو سے

۲

شمع کے رونے پہ بس صاف ہنسی آتی ہےآتش دل کہیں کم ہوتی ہے چار آنسو سے

۳

ایک دن وہ تھا کہ تکیہ تھا کسی کا بازواب سر اٹھتا ہی نہیں اپنے سر زانو سے

۴

نزع میں ہوں مری مشکل کرو آساں یاروںکھولو تعویذ شفا جلد مرے بازو سے

۵

شوخیٔ چشم کا تو کس کی ہے دیوانہ انیسؔآنکھیں ملتا ہے جو یوں نقش کف آہو سے

۹ / ۹۰