کلامِ انیسردیف ے
کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتے
۱
کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتےکسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتے
۲
کسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبرکہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے
۳
فقیر دوست جو ہو ہم کو سرفراز کرےکچھ اور فرش بجز بوریا نہیں رکھتے
۴
مسافرو شب اول بہت ہے تیرہ و تارچراغ قبر ابھی سے جلا نہیں رکھتے
۵
وہ لوگ کون سے ہیں اے خدائے کون و مکاںسخن سے کان کو جو آشنا نہیں رکھتے
۶
مسافران عدم کا پتہ ملے کیونکروہ یوں گئے کہ کہیں نقش پا نہیں رکھتے
۷
تپ دروں غم فرقت ورم پیادہ رویمرض تو اتنے ہیں اور کچھ دوا نہیں رکھتے
۸
کھلے گا حال انہیں جب کہ آنکھ بند ہوئیجو لوگ الفت مشکل کشا نہیں رکھتے
۹
جہاں کی لذت و خواہش سے ہے بشر کا خمیروہ کون ہیں کہ جو حرص و ہوا نہیں رکھتے
۱۰
انیسؔ بیچ کے جاں اپنی ہند سے نکلوجو توشۂ سفر کربلا نہیں رکھتے
۱۰ / ۹۰