کلامِ انیسردیف ن

نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں

۱

نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیںوہ جاگتے ہیں جو دنیا کو خواب سمجھے ہیں

۲

کبھی برا نہیں جانا کسی کو اپنے سواہر ایک ذرے کو ہم آفتاب سمجھے ہیں

۳

عجب نہیں ہے جو شیشوں میں بھر کے لے جائیںان آنسوؤں کو فرشتے گلاب سمجھے ہیں

۴

زمانہ ایک طرح پر کبھی نہیں رہتااسی کو اہل جہاں انقلاب سمجھے ہیں

۵

انہیں کو دار بقا کی ہے پختگی کا خیالجو بے ثباتی دہر خراب سمجھے ہیں

۶

شباب کھو کے بھی غفلت وہی ہے پیروں کوسحر کی نیند کو بھی شب کا خواب سمجھے ہیں

۷

لحد میں آئیں نکیرین آئیں بسم اللہہر اک سوال کا ہم بھی جواب سمجھے ہیں

۸

اگر غرور ہے اعدا کو اپنی کثرت پرتو اس حیات کو ہم بھی حباب سمجھے ہیں

۹

نہ کچھ خبر ہے حدیثوں کی ان سفیہوں کونہ یہ معانی ام الکتاب سمجھے ہیں

۱۰

کبھی شقی متمتع نہ ہوں گے دنیا سےجسے یہ آب اسے ہم سراب سمجھے ہیں

۱۱

مزیل عقل ہے دنیا کی دولت اے منعماسی کے نشے کو صوفی شراب سمجھے ہیں

۱۲

حرارتیں ہیں مآل حلاوت دنیاوہ زہر ہے جسے ہم شہد ناب سمجھے ہیں

۱۳

انیسؔ مخمل و دیبا سے کیا فقیروں کواسی زمین کو ہم فرش خواب سمجھے ہیں

۳ / ۹۰