کلامِ انیسردیف ن

مرا راز دل آشکارا نہیں

۱

مرا راز دل آشکارا نہیںوہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیں

۲

وہ گل ہوں جدا سب سے ہے جس کا رنگوہ بو ہوں کہ جو آشکارا نہیں

۳

وہ پانی ہوں شیریں نہیں جس میں شوروہ آتش ہوں جس میں شرارہ نہیں

۴

بہت زال دنیا نے دیں بازیاںمیں وہ نوجواں ہوں جو ہارا نہیں

۵

جہنم سے ہم بے قراروں کو کیاجو آتش پہ ٹھہرے وہ پارا نہیں

۶

فقیروں کی مجلس ہے سب سے جداامیروں کا یاں تک گزارا نہیں

۷

سکندر کی خاطر بھی ہے سد بابجو دارا بھی ہو تو مدارا نہیں

۸

کسی نے تری طرح سے اے انیسؔعروس سخن کو سنوارا نہیں

۴ / ۹۰