جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
در پیش ہے کل فوج سمتگر سے لڑائییاں تھوڑے سے پیاسے ہیں، ادھر ساری خدائیبے سر دیے رن سے نہ پھرے گا مرا بھائیہو جائے گی حیدرؔ کے بھرے گھر کی صفائیاس غم سے سدا اشکوں سے منہ دھوتی تھیں اماںکل دن وہ ہے جس دن کے لئے روتی تھی اماں
About this couplet
This is couplet 10 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۰ / ۱۵۰