جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

کہتی تھی کبھی، آج پیمبر نہیں ہے ہےحال اپنا دکھاؤں کسے حیدرؔ نہیں ہے ہےبیٹی پہ فلک ٹوٹا ہے، مادر نہیں ہے ہےشبیرؔ مصیبت میں تھے، شبرؔ نہیں ہے ہےدیکھا نہ سنا یہ جو ستم آج ہے لوگونازوں کا پلا پانی کو محتاج ہے لوگو

About this couplet

This is couplet 9 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹ / ۱۵۰