جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
وہ چاند سے منہ، اور وہ گیسوئے معنبروہ بدر سے رخسار، زہے قدرتِ داورسب شان یداللہ کی، سب شوکتِ حیدرؔچتون وہی، غصہ وہی، سارے وہی تیوریہ دبدبہ کس صاحبِ شمشیر نے دیکھادیکھا جسے، معلوم ہوا شیر نے دیکھا
About this couplet
This is couplet 114 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۴ / ۱۵۰