جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

تن تن کے جو شان اپنی دکھاتے تھے وہ ذی جاہچھاتی سے لگا لیتے تھے دونوں کو ید اللہشمشاد سے قامت، نہ دراز اور نہ کوتاہکھیلے ہوئے تیغوں میں فنِ جنگ سے آگاہناخن سے دلیروں کے سب اندازِ وِغا تھےبچے تھے مگر بچۂ ضرغامِ خدا تھے

About this couplet

This is couplet 115 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۵ / ۱۵۰