جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

تھے حسن میں ان دونوں کے آئینہ رو ایکپیشانی و ابرو و سر و صدر و گلو ایکشان ایک، شکوہ ایک، جو رنگ ایک، تو بو ایکدل ایک، جگر ایک، جسد ایک، لہو ایکاور ان سا کوئی غرب سے تا شرق نہیں ہےدو ٹکڑے ہیں اک سیب کے، کچھ فرق نہیں ہے

About this couplet

This is couplet 116 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۶ / ۱۵۰