جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

چھوٹے نے کہا جوڑ کے ہاتھوں کو کہ، بہتربس کھینچ لئے نیمچے، دونوں نے برابردو بجلیاں کوندیں کہ لرزنے لگے لشکرنیزوں کے نیستاں میںِ در آئے وہ غضنفربرباد کیا رو میں سواروں کو دبا کےرہوار بھی اسوار تھے گھوڑوں پہ ہوا کے

About this couplet

This is couplet 122 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۲ / ۱۵۰