جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
ان چھوٹی سی تلواروں کے تھے کاٹ نرالےتھیں کہنیاں پہونچوں سے جدا، ہاتھوں سے بھالےمسل اپنی جمائے تھے جو بے مثل رسالےتھے جائزہ ان سب کا یہی دیکھنے والےناز اپنے ہنر پر تھا شجاعان عرب کونیزوں کو قلم کر کے ندارد کیا سب کو
About this couplet
This is couplet 123 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۳ / ۱۵۰