جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
تانے ہوئے سینوں کو جدھر جاتے تھے دونوںتلواروں کی موجوں سے گزر جاتے تھے، دونوںہر غول میں بے خوف و خطر جاتے تھے، دونوںسب ہوتے تھے پسپا تو ٹھہر جاتے تھے، دونوںالٹی ہوئی صف دیکھ کے ہنس دیتا تھا بھائیبھائی کی طرف دیکھ کے ہنس دیتا تھا بھائی
About this couplet
This is couplet 132 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳۲ / ۱۵۰