جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
بے آب تھے دو دن سے یہ جاندار تھے گھوڑےہر مرتبہ اڑ جانے پہ تیار تھے گھوڑےاس پار کبھی تھے، کبھی اس پار تھے گھوڑےنقطہ تھے وہ سب فوج کی پرکار تھے گھوڑےدس بیس جو مر جاتے تھے ٹاپوں سے کچل کربڑھ سکتا نہ تھا اِک بھی احاطہ سے اجل کے
About this couplet
This is couplet 131 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳۱ / ۱۵۰