جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

اب عمر بھی آخر ہے، نمازیں بھی ہیں آخربے توشہ پہونچتا نہیں، منزل پہ مسافرہر وقت ہے ربِ دو جہاں حاضر و ناظراجر ان کے مضاعف ہیں جو ہیں صابر و شاکرمشکل نہ کسی رنج کو سمجھے نہ بلا کوبندہ وہی بندہ ہے جو بھولے نہ خدا کو

About this couplet

This is couplet 14 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۴ / ۱۵۰