جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

نام اس کا رہے ورد، سفر ہو کہ حضر ہوموجود سمجھ لے اسے جنگل ہو کہ گھر ہوسجدے ہی کرے دکھ میں کہ راحت میں بسر ہوتسبیح میں شب ہو، تو نمازوں میں سحر ہوعشق گل تر ظلم کے خاروں میں نہ بھولےمعشوق کو تلواروں کی دھاروں میں نہ بھولے

About this couplet

This is couplet 15 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵ / ۱۵۰