جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
اس نہر کا لینا تو کچھ ایسا نہیں مشکلروکیں ہمیں کیا تاب لعینوں کی ہے، کیا دلپل باندھ لیں لاشوں کے ابھی ہم سرِ ساحلبتلایئے، پھر نہر کے لے لینے سے حاصلدیکھو نہ ادھر پیاس سے گو لاکھ تعب ہےاماں ہمیں گر دودھ نہ بخشیں تو غضب ہے
About this couplet
This is couplet 140 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۰ / ۱۵۰