جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

اشک آنکھوں میں بھر کر، کہا چھوٹے نے بہت خوبہر دم ہے رضامندئ مادر ہمیں مطلوبایسے تو نہیں ہم کہ بزرگوں سے ہوں محجوبمنظور یہ تھا فخر کا، نکلے کوئی اسلوبدریا کو بھی دیکھیں گے نہ اب آنکھ اٹھا کےپیتے بھی تو پہلے شہِ والا کو پلا کے

About this couplet

This is couplet 141 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۴۱ / ۱۵۰