جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
رو کر دمِ رخصت وہ یہی کہتے تھے ہر بارمیں شاہ کا خادم ہوں، یہ دونوں ہیں نمک خوارآگاہ صعوباتِ سفر سے نہیں زنہاراے دخترِ زہرا مرے بیٹوں سے خبردارمیں رکھ نہیں سکتا ہوں کہ ماموں پہ فدا ہیںاب تو یہی دونوں مرے پیری کے عصا ہیں
About this couplet
This is couplet 145 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۵ / ۱۵۰