جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
شوہر کا تڑپنا اسے کچھ بھی نہ رہا یادہے ہے مری الفت میں لٹی زینبؔ ناشادیوں بھائی پہ صدقے کوئی کرتا نہیں اولادہم دیکھتے ہیں اور بہن ہوتی ہے بربادروئے گی وہ بیٹوں کو تو سمجھائیں گے کیوں کرمنہ زینبِؔ دلگیر کو دکھلائیں گے کیوں کر
About this couplet
This is couplet 146 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۶ / ۱۵۰