جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
چومے لب سوفار، جو سینے پہ لگیں تیردم عشق کا بھرتا رہے زیر دم شمشیرزخموں کو یہ سمجھے، کہ ملا گلشن توقیرتکبیر کا نعرہ ہو زباں پر، دم تکبیرکٹنے میں رگوں کے نہ صدا آہ کی نکلےہر رنگ میں بو الفت اللہ کی نکلے
About this couplet
This is couplet 16 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۶ / ۱۵۰