جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
رو آتی ہیں عابدؔ کے سرہانے کبھی جا کرگہوارۂ اصغرؔ پہ کبھی گرتی ہیں آ کرقرآں کی ہوا دیتی ہیں غش میں اسے پا کربہلاتی ہیں، بیٹی کو کبھی اشک بہا کروہ کہتی ہے تا صبح یوں ہی روؤں گی اماںبابا ہی جب آویں گے تو میں سوؤں گی اماں
About this couplet
This is couplet 26 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۶ / ۱۵۰