جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

بتلاؤ شہ جن و بشر کیوں نہیں آتےاب رات بہت کم ہے، پدر کیوں نہیں آتےآزردہ ہیں کچھ مجھ سے، ادھر کیوں نہیں آتےکیا آج وہیں سوئیں گے، گھر کیوں نہیں آتےاب پیاسوں کی فریاد بھی بابا نہیں سنتےحضرت مرے رونے کی صدا کیا نہیں سنتے

About this couplet

This is couplet 27 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۷ / ۱۵۰