جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
گرمی کی سحر اور وہ پھولوں کا مہکنامرغان چمن کا وہ درختوں پہ چہکناانجم کا وہ چھپنا کبھی اور گاہ چمکناوہ سرد ہوا اور وہ سبزے کا لہکنااس دشت میں روتی تھی جو شبنم شہ دیں پرتھا موتیوں کا فرش زمرد کی زمیں پر
About this couplet
This is couplet 41 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۱ / ۱۵۰