جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
جلوہ وہ دم صبح کا، وہ نور کا عالمدلچسپ صدا نوبت و شہنا کی، وہ باہمسرخی وہ شفق کی، افق چرخ پہ کم کموہ گل کے کٹوروں پہ در افشانیٔ شبنمخشکی میں بھی سردی سے ترائی کا سماں تھاپر مالک گلزار جناں، تشنہ دہاں تھا
About this couplet
This is couplet 42 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۲ / ۱۵۰