جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
تھا خانۂ غم خیمۂ شاہنشہ والاآندھی یہ پریشاں تھی کہ دل تھا تہ و بالامشعل نہ ٹھہرتی تھی، نہ شمعوں کا اجالاخیمہ بھی اندھیرے میں نظر آتا تھا کالاخاک اڑتی تھی منہ پر، حرم شیر خدا کےتھا چیں بجبیں فرش بھی جھونکوں سے ہوا کے
About this couplet
This is couplet 5 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵ / ۱۵۰