جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
جنگل کی ہوا، اور درندوں کی صدائیںتھراتی تھیں بچوں کو چھپائے ہوئے مائیںدھڑکا تھا کہ دہشت سے نہ جانے کہیں جائیںروتی تھی کوئی، اور کوئی پڑھتی تھی دعائیںگودوں میں بھی راحت نہ ذرا پاتے تھے بچےجب بولتے تھے شیر تو ڈر جاتے تھے بچے
About this couplet
This is couplet 6 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶ / ۱۵۰