جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
اب آپ کے جانے سے تو ثابت ہے نہ آناکیوں کہتے تھے زینب اسے چھاتی سے سلانابانو مرے پیچھے، نہ سکینہ کو رلاناپانی جو میسر ہو تو پیاس اس کی بجھانابہلائیو جب رو کے مجھے یاد کرے گیتڑپوں گا لحد میں جو یہ فریاد کرے گی
About this couplet
This is couplet 56 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۶ / ۱۵۰