جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
میں سنتی تھی عابدؔ سے جو کچھ کی تھی وصیتاس گھر کی تباہی کی خبر دیتے تھے حضرتہے ہے یہ مری عمر یہ صدمہ یہ مصیبتلے لو مجھے ہمراہ، گوارہ نہیں فرقتساتھ آپ کے جاؤں گی جو اس دار محن سےکوئی مری گردن تو نہ باندھے گا رسن سے
About this couplet
This is couplet 57 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۷ / ۱۵۰