جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
نادان کی ان باتوں پہ گھر روتا تھا ساراماتم میں کسی دل کو نہ تھا، صبر کا یاراحضرت کو بھی فرقت تھی نہ بیٹی کی گواراڈیوڑھی تک اسے گود سے اپنی نہ اتاراجس دم وہ چھٹی، جیتے ہی جی مرگئے شپیرؔکس درد سے روتے ہوئے باہر گئے شپیرؔ
About this couplet
This is couplet 58 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۸ / ۱۵۰