جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
مطلب نہ علم سے نہ حشم سے ہمیں کچھ کاممٹ جائیں نشاں، بس یہی عہدہ ہے یہی نامیہ سر ہوں نثار قدم شاہ خوش انجامعزت رہے بھائی، یہ دعا ہے سحرو شامآقا جسے چاہیں علم فوج خدا دیںمشتاق اجل ہیں ہمیں مرنے کی رضا دیں
About this couplet
This is couplet 63 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶۳ / ۱۵۰