جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
روتی تھی جو پردے کے قریں زینبؔ دلگیرسب اس نے مفصل یہ سنی بیٹوں کی تقریرفضہؔ سے یہ کہنے لگی، وہ صاحب توقیردونوں کو اشارے سے بلا لے کسی تدبیرکچھ کہنا ہے سن لیں اسے فرصت انہیں گر ہوعباسؔ نہ دیکھیں نہ شہ دیں کو خبر ہو
About this couplet
This is couplet 64 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶۴ / ۱۵۰