جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

یہ کہتی تھی زینبؔ کہ خود آئے وہ نکو کارچھوٹے سے یہ فرمانے لگیں زینبؔ ناچارکیا باتیں ابھی بھائی سے تھیں، اے مرے دلداراس وقت میں ہو کون سے منصب کے طلب گارسمجھے نہ کہ مادر عقب پردہ کھڑی ہےگھر لٹتا ہے میرا، تمہیں منصب کی پڑی ہے

About this couplet

This is couplet 65 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۶۵ / ۱۵۰