جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
تھی سب سے سوا، بنت علی، مضطر و بیتابفق ہو گیا تھا شام سے منہ صورت مہتابمژگاں سے رخ پاک پہ تھی، بارش خوں نابتلوار کلیجے پہ چلے جب تو کہاں تاباِک کرب تھا بسمل کی طرح جان حزیں پراٹھتی تھی کبھی اور کبھی گرتی تھی زمیں پر
About this couplet
This is couplet 8 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸ / ۱۵۰