جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

رانوں کے اشارے سے لگا کوندنے، شبدیزاسوار کے دل کا تھا اشارہ اسے مہمیزگرما کے جو شبیرؔ نے تازی کو کیا تیزاعدا پہ چلا غول سواروں کا، جلو ریزایک ایک جوانِ عربی، رشکِ ملک تھااللہ کے لشکر کا علم، سر بہ فلک تھا

About this couplet

This is couplet 89 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸۹ / ۱۵۰