جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

کیا فیضِ سواری تھا کہ زر ریز تھی سب راہطالع تھا ادھر مہر، ادھر تھا علم شاہمابین دو خورشید تھی، فوجِ شہِ ذی جاہپنجے پہ تجلی تھی، کہ اللہ ہی اللہبالا تھی چمک، مہرِ منور کی چمک پرضو اس کی زمیں پر تھی، ضیا اس کی فلک پر

About this couplet

This is couplet 90 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۰ / ۱۵۰