جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
کھولا جو پھریرے کو علمدار جری نےلوٹے گلِ فردوس، نسیم سحری نےتاروں کو اتارا، فلکِ نیلوفری نےپرچم جو کھلا کھول دیے بال پری نےعیسی نے پکارا کہ نثار اس کے چشم کےخورشید نے منہ رکھ دیا پنجے پہ علم کے
About this couplet
This is couplet 96 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۶ / ۱۵۰