جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

مقتل کو جو پر نور کیا، عسکرِ دیں نےدیکھا طرفِ چرخ، حقارت سے زمیں نےاونچا نہ کیا سر فلکِ ماہِ جبیں نےکی فرش پہ حسرت سے نظر عرشِ بریں نےاٹھ اٹھ کے چمک اپنی دکھانے لگے ذرےخورشید کے پہلو کو دبانے لگے ذرے

About this couplet

This is couplet 95 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۵ / ۱۵۰