جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

وہ تیغ کھول دیتی تھی لوہے کا بھی حصارتھا اس کے ہاتھ سے دلِ چار آئینہ فگارآری تھیں منہ پہ تیغوں کے ایسے پڑے تھے دارخود اپنے سر پٹکتے تھے گر گر کے بار بارپانی وہ زہر تھا کہ پیا اور فنا ہواہے آج تک زرہ کا کلیجہ چھنا ہوا

About this couplet

This is couplet 117 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۷ / ۱۵۶