جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

جاتی تھی ہر سرے کی طرف سن کے بار بارچڑھ کے سوار گرتے تھے تو سن کے بار باراٹھتی تھی الاماں کی صدا رن سے بار بارہر سر کا بار اترتا تھا گردن سے بار بارغارت ہوئے تباہ ہوئے بے تزک ہوئےضربِ گراں جو اٹھ نہ سکی کیا سبک ہوئے

About this couplet

This is couplet 118 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۸ / ۱۵۶