جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

سر سے کمر میں تھی تو کمر سے تہ فرسآفت کا منہ تھا قہر کا دم خم ستم کا کسکشتے تڑپ رہے تھے چپ و راس پیش و پسدو تھے اگر تو چار ہوئے پانچ تھے تو دسغل تھا وہی لڑے جسے سر تن پہ بار ہوآفت بپا ہے کون اجل سے دو چار ہو

About this couplet

This is couplet 120 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۰ / ۱۵۶