جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

غل تھا شرارتوں سے اس آتش زبان کیپریاں پکارتی تھیں کہ ہو خیر جان کیدنیا میں شعلہ بار ہے آگ اس جہان کیبدلی ہوئی ہے آج ہوا آسمان کیبجلی خجل ہے نازیہ اس شعر خو کے ہیںبوچھاڑ ہے سروں کی در یڑے لہو کے ہیں

About this couplet

This is couplet 121 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۱ / ۱۵۶